حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ایم ڈبلیو ایم کے وائس چیئرمین علامہ احمد اقبال رضوی نے اپنے خطاب میں دین اور سیاست کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی، سماجی اور سیاسی معاملات میں بھی انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلامی سیاست کا بنیادی مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں، بلکہ عدل و انصاف کا قیام، مظلوموں کے حقوق کا تحفظ، ظالموں کے خلاف جدوجہد اور معاشرے کو ظلم و ناانصافی سے نجات دلانا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست کو ذاتی مفادات، شہرت اور اقتدار کی خواہش کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا اور عوامی خدمت کا ذریعہ بننا چاہیے۔
انہوں نے انبیائے کرام اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد صرف دینی تعلیمات کی تبلیغ تک محدود نہیں تھی، بلکہ معاشرے کی اصلاح، عدل کے قیام اور ظالمانہ نظاموں کے خلاف مزاحمت بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھی۔ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم کرکے دینی تعلیمات کے ساتھ اجتماعی اور سیاسی نظام کی تشکیل بھی فرمائی۔
علامہ سید احمد اقبال رضوی نے مکتبِ اہل بیت علیہم السلام میں امامت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ عقیدے کے مطابق رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امت کی دینی و سیاسی رہنمائی کا منصب اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ ائمہ کو حاصل ہے۔ امام محض مذہبی مسائل کی وضاحت کرنے والی شخصیت نہیں، بلکہ دین کی حفاظت، قرآن و سنت کی صحیح تشریح، امت کی رہنمائی اور عدل و انصاف کے قیام کی ذمہ داری بھی رکھتا ہے۔

انہوں نے امامت اور عام سیاسی اقتدار کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مکتب اہل بیتؑ میں حقیقی حقِ امامت و حکومت کا تعلق الٰہی تقرر سے ہے۔
انہوں نے مکتبِ اہل بیتؑ کی تاریخ میں ظلم کے خلاف جدوجہد کے مختلف طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے قیام کو کھلی مزاحمت کی نمایاں مثال قرار دیا۔
علامہ سید احمد اقبال نے کہا کہ امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے یہ واضح کیا کہ ظالمانہ اقتدار کے سامنے حق و انصاف پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح دیگر ائمہ اہل بیتؑ نے اپنے اپنے زمانے کے حالات کے مطابق علمی، فکری، تربیتی اور اخلاقی جدوجہد کے ذریعے دین کی حفاظت اور ظلم کے خلاف شعور بیدار کرنے کا فریضہ انجام دیا۔
علامہ رضوی نے حدیثِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ’’افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق گوئی، مظلوموں کی حمایت اور حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروانا اسلامی سیاست کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ظلم کے خلاف جدوجہد کا مطلب بے گناہوں کے خلاف تشدد نہیں بلکہ حق، انصاف اور مظلوموں کے حقوق کے لیے اصولی موقف اختیار کرنا ہے۔

انہوں نے ظالم حکمرانوں کی معاونت اور ان کے نظام کو مضبوط بنانے کے شرعی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ظلم صرف براہِ راست ظلم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ظالم کے اقدامات میں عملی معاونت، مظلوموں کے حقوق دبانے اور ناجائز اقدامات کو تقویت دینے کی صورتیں بھی قابلِ مذمت ہیں۔
انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں اس بات پر زور دیا کہ کسی مسلمان کو ایسے کام میں شریک نہیں ہونا چاہیے جو ظلم و ناانصافی کا سبب بنے۔
علامہ سید احمد اقبال رضوی نے فقہی مسائل کی وضاحت کرتے ہوئے حکمِ اولیٰ اور حکمِ ثانوی کے فرق پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ حکمِ اولیٰ کسی عمل کی معمول کی حالت میں لاگو ہونے والا شرعی حکم ہے، جبکہ مجبوری، اضطرار اور غیر معمولی حالات میں حکمِ ثانوی کے تحت بعض احکام میں رعایت دی جا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے سورۂ نحل کی آیت 106 اور تاریخی واقعے کا حوالہ دیا، جنہیں شدید تشدد اور جان کے خطرے کے تحت کلماتِ کفر کہنے پر مجبور کیا گیا تھا، تاہم ان کا دل ایمان پر مطمئن تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی شریعت میں انسان کے اختیار، مجبوری اور نیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے ظالم یا غیر عادل حکومت کے اداروں میں ملازمت کے شرعی حکم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا فیصلہ ہر صورت میں یکساں نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے علی ابن یقطینؒ کی مثال پیش کی، جو عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں اہم سرکاری منصب پر فائز تھے اور اپنے عہدے کے ذریعے مومنین کی مدد اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتے تھے۔
انہوں نے امام خمینیؒ کے فقہی مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کا کسی سرکاری منصب کو قبول کرنا مظلوموں کی مدد، مومنین کے حقوق کے تحفظ اور ظلم میں کمی کا ذریعہ بن سکتا ہو تو شرعی شرائط کے ساتھ ایسا منصب قبول کرنا جائز، بلکہ بعض حالات میں واجب بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کا انحصار متعلقہ ذمہ داریوں اور مرجعِ تقلید کے فتوے پر ہے۔
علامہ احمد اقبال رضوی نے اپنے خطاب میں ایران، یمن اور فلسطین سمیت مختلف خطوں میں جاری جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے اسے ظلم، استکبار اور مظلوم اقوام کے حقوق کے تناظر میں پیش کیا۔ انہوں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ مکتبِ اہل بیتؑ کی تاریخ محض عقائد و عبادات کی تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف مسلسل جدوجہد، حق گوئی اور انسانی انصاف کے قیام کی تاریخ بھی ہے۔
انہوں نے سیاسی شعور کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دینی و سیاسی کارکنوں کو چاہیے کہ وہ سیاست کو ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی خدمت کا ذریعہ بنائیں، عوام میں دینی و سیاسی آگاہی پیدا کریں، مظلوموں کی آواز بنیں اور اپنے عملی کردار میں شرعی و اخلاقی اصولوں کی پابندی کریں۔










آپ کا تبصرہ